پستہ قامت افراد میں ذیابیطس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے: رپورٹ

ایک تحقیق کے مطابق لمبے قد والے افراد کے مقابلے میں پستہ قامت افراد میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

میڈیکل جریدے ‘ڈائیبیٹولوجیہ’ میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چھوٹے قد کے مردوں میں ذیابیطس ہونے کے 44 فیصد اور خواتین میں 33 فیصلہ امکانات ہوتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھوٹے قد والے افراد میں ذیابیطس کا زیادہ خطرہ جگر میں پائی جانے والی چربی کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب کہ ایسے افراد کو دل کے امراض اور فالج کا حملہ ہونے کا بھی خطرہ لاحق رہتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے 1994 سے 1998 کے درمیان جرمنی کے شہر پوٹسڈیم میں 16 ہزار 600 سے زیادہ خواتین اور 11 ہزار مردوں کا طبی سروے کیا گیا۔

سروے نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ذیابیطس سے بچنے کے لیے لمبا قد ایک قدرتی ڈھال کا کام دیتا ہے۔

ذیابیطس کے شکار افراد کے خون میں گلوکوز یا بلڈ شوگر بہت زیادہ ہوتی ہے جو خوارک سے بنتی ہے۔

ذیابیطس کے شکار افراد کے خون میں گلوکوز یا بلڈ شوگر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ (فائل فوٹو)

ذیابیطس کی اقسام

ذیابیطس کی پہلی قسم ٹائپ ون کہلاتی ہے جس کی تشخیص عام طور پر بچپن میں ہی ہوجاتی ہے۔ اس سے صرف 10 فیصد افراد متاثر ہوتے ہیں۔

اس مرض میں جسم میں انسولین نہیں بنتی۔ اس کا علاج بھی آسان ہے۔ بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھا جائے تو مرض کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

ذیابیطس کی دوسری قسم یا ٹائپ ٹو میں جسم کم مقدار میں انسولین بناتا ہے لیکن یہ کافی نہیں ہوتی۔ جس کا مطلب ہے کہ مریض کے خون میں گلوکوز موجود رہتا ہے۔

بیماری کی یہ قسم موٹاپے سے بہت حد تک مشروط ہے۔ اس سے متاثرہ مریضوں میں ذیابیطس کے کنٹرول سے باہر ہونے کی صورت میں اندھے پن، گردوں، اور دل کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ جب کہ ایسی صورت حال میں فالج کا حملہ بھی ہوسکتا ہے۔

ذیابیطس کی دوسری قسم کے شکار مریض کا مرض بڑھنے کی صورت میں جسمانی اعضا کاٹنے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔