کپاس کی نئی قسم، ذائقہ کابلی چنے جیسا مزیدار اور صحت بخش بھی

اب وہ دن دور نہیں جب آپ صرف کپاس کے ملبوسات ہی استعمال نہیں کریں گے بلکہ کھانے کی میز پر بھی آپ کو کاٹن کی مزیدار ڈش ملا کرے گی اور طبی ماہرین کاٹن کے صحت بخش اجزا کے پیش نظر اسے خوراک کا لازمی حصہ بنانے کا مشورہ دیا کریں گے۔

امریکی عہدے داروں نے حال ہی میں کپاس کی ایک نئی قسم کاشت کرنے کی اجازت دے دی ہے، جسے جینیاتی طور پر تبدیل کر کے انسانی خوراک کے قابل بنایا گیا ہے۔ اس پر ٹیکساس کی اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے زرعی سائنس دان ایک عرصے سے کام کر رہے تھے۔

کپاس کو ہمارے ہاں چاندی کی فصل کہا جاتا ہے کیونکہ جب کپاس کے پھول کھلتے ہیں تو جہاں تک نظر جاتی ہے، کھیتوں میں چاندی سی بکھری ہوئی نظر آتی ہے۔

زیادہ دور کی بات نہیں ہے کہ پاکستان کا شمار کپاس پیدا کرنے والے چند اہم ملکوں میں ہوتا تھا۔ پنجاب اور سندھ کی زرخیز زمینوں میں بڑے پیمانے پر کپاس بوئی جاتی تھی اور اس کا بڑا حصہ بیرونی ممالک کو برآمد کر کے زرمبادلہ حاصل کیا جاتا تھا۔ لیکن اب صورت حال پلٹ چکی ہے۔ پاکستان اب کپاس درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے اور اسے اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو چلانے کے لیے کپاس باہر سے منگوانی پڑتی ہے کیونکہ کاشت کاروں کو کپاس کے کئی ایسے متبادل مل گئے ہیں جو اس سے زیادہ آمدنی دیتے ہیں۔

اس وقت کپاس دنیا کے 80 سے زیادہ ملکوں میں کاشت کی جا رہی ہے جن کا عمومی طور پر تعلق ایشیا اور افریقہ سے ہے۔ اپنے ریشے کی خوبیوں کے لحاظ سے مصر کی کپاس کو دنیا کی سب سے اچھی کپاس سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کپاس کا استعمال تقریباً پانچ ہزار سال سے کرتا آ رہا ہے۔ اس کے ریشے سے نہ صرف کپڑا بنایا جاتا ہے بلکہ اس کا استعمال کئی اور شعبوں میں بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم اس بارے میں شاید ہی کسی نے سوچا ہو گا کہ کاٹن کی ہنڈیا بھی پکائی جا سکتی ہے اور اس سے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔

ہمارے ہاں کپاس کے بیج سے، جسے بنولہ کہا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے اور اس کے باقی بچ جانے والے پھوگ کو جسے عموماً ‘ کھل’ کہا جاتا ہے، دودھ دینے والی گائے بھینسوں کی خوراک میں شامل کیا جاتا ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ اس سے جانور نہ صرف دودھ زیادہ دیتے ہیں، بلکہ وہ گاڑھا بھی ہوتا ہے اور اسے بلونے سے مکھن بھی زیادہ نکلتا ہے۔

غذائیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی خوراک کے طور پر بنولے کے تیل کا استعمال مفید ہے۔ لیکن استعمال سے قبل اس میں شامل ایک جزو ‘گاسپال’ کو الگ کرنا ضروری ہے جو مضر صحت ہوتا ہے۔

گاسپال کو الگ کرنے کے بعد بنولے کا تیل چپس، بیکری، کیک اور اسی طرح کی دوسری چیزیں بنانے کے کام آ سکتا ہے کیونکہ بنولے کے تیل سے تیار کردہ چیزوں کی شیلف لائف زیادہ ہوتی ہے۔

ٹیکساس کی اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے ایگری لائف ریسرچ شعبے کے بائیو ٹیکنالوجسٹ کیرتی راٹھور کا کہنا ہے کہ جینیاتی کپاس کی کاشت کے لیے زرعی سائنس دان مختلف کمپنیوں سے رابطے میں ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں اس کی تجارتی پیمانے پر کاشت شروع ہو جائے گی۔

راٹھور نے بتایا کہ زرعی سائنس دانوں نے جینیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال سے بنولے کے ڈی این اے کے اس حصے کو بے اثر کر دیا ہے جو زہریلا جزو گاسپال پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد اب کپاس دو مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، یعنی ٹیکسٹائل کے لیے بھی اور انسانی خوراک کے لیے بھی۔

وہ کہتے ہیں کہ میں نے جینیاتی کپاس کے بیج کو کھایا ہے۔ مجھے تو اس کا ذائقہ بالکل کابلی چنے جیسا لگا۔

انہوں نے بتایا کہ بنولے کے تجزیے سے پتا چلا کہ اس میں پروٹین کی بھاری مقدار موجود ہے اور اسے پروٹین کی انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ غریب ملکوں میں انسانی خوراک میں پروٹین کی اتنی مقدار موجود نہیں ہوتی جتنی کہ اسے درکار ہوتی ہے۔

راٹھور نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس وقت دنیا بھر میں پیدا ہونے والے بنولے میں تقریباً 11 ٹریلین گرام پروٹین موجود ہوتا ہے۔ یہ مقدار 50 کروڑ انسانوں کی سال بھر کی پروٹین کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بنولے کو تجارتی پیمانے پر مرغیوں اور مچھلیوں کی خوراک کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔