کھربوں ٹن ہیروں کا ذخیرہ آپ کی آمد کا منتظر ہے

اگر آپ کو ہیروں سے دلچسپی ہے اور اصلی ہیروں کی پہچان رکھتے ہیں تو آپ کے لیے ایک خوش خبری ہے کہ حال ہی میں سائنس دانوں نے ہیروں کے ایک بہت بڑے ذخیرے کا کھوج لگایا ہے جن کے وزن کا اندازہ ایک ہزار ٹریلین ٹن سے زیادہ ہے۔ آسان گنتی میں اگر آپ ایک کے آگے 15 صفر لگا دیں، تو یہ نئے دریافت ہونے والے ہیروں کے ذخیرے کا وزن بن جائے گا۔

ماضی میں ہیروں کا زیادہ تر استعمال زیورات میں کیا جاتا تھا۔ کچھ جنگیں تو ایسی بھی ہیں جو صرف ہیروں کے لیے لڑی گئیں۔ دنیا کے سب سے نایاب ہیروں میں کوہ نور بھی شامل ہے جو کئی راجوں مہاراجوں کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا مغل بادشاہوں تک پہنچا اور مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد ملکہ برطانیہ کے تاج کی زینت بن گیا۔

خام ہیروں کو تراش کا چمکتا دمکتا ہیرا بنانا ایک مشکل اور صبرآزما کام ہے۔

قدرتی اور اصلی ہیروں کی بہت بڑے ذخیرے کی دریافت کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے ، چند ہی برسوں میں جواہرات کی منڈیوں میں ہیروں کی ریل پیل ہو جائے گی اور وہ عام آدمی کی قوت خرید میں آ جائیں گے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہیروں کا بڑا ذخیرہ تو دریافت ہو گیا ہے لیکن فی الحال ان تک رسائی ممکن نہیں ہے۔

ہیرے عموماً کانوں سے بڑی تلاش بسیار کے بعد نکالے جاتے ہیں۔ ہیروں کے متعلق دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کوئلے سے بنتے ہیں۔ کوئلے کو جب بہت زیادہ درجہ حرارت پر شدید دباؤ میں رکھا جاتا ہے تو وہ ہیرے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مصنوعی ہیرے اسی طریقے سے بنائے جاتے ہیں، لیکن چونکہ ان کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی اس لیے ان کا زیادہ تر استعمال صنعتی شعبے میں کیا جاتا ہے۔

دنیا کے بھر میں ہیروں کے سب سے بڑے ذخیرے کی دریافت کا سہرا امریکہ کے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں کے سر ہے۔

یہ دریافت اس وقت ہوئی جب ایم آئی ٹی کے سائنس دان مصنوعی زلزلے کی لہروں سے زیر زمین چٹانوں کا تجزیہ کر رہے تھے۔ زلزلے کی لہروں کی رفتار سے چٹانوں کی ساخت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

ہیروں کا سائنسی تجربہ گاہوں میں استعمال

زمین کے نیچے چٹانوں کی تہہ در تہہ پرتیں ہیں۔بہت گہرائی میں بعض چٹانی پرتوں کی ساخت تو ایسی ہے جیسے پہاڑ الٹ دیے گئے ہوں۔ زمین کی گہرائی کے ساتھ ساتھ چٹانوں پر دباؤ اور درجہ حرارت بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ شديد دباؤ اور درجہ حرارت کے مقامات پر اگر کوئلہ موجود ہو تو زیادہ امکان یہ ہوتا ہے کہ وہ ہیروں میں تبدیل ہو جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیرے میں سے آواز کی لہریں گذرنے کی رفتار، زمین میں پائی جانے والی خام دھاتوں کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

حام ہیرا، جو تراش خراش کے بعد ہیرا بنتا ہے۔

اس تجزیے کے دوران سائنس دانوں کو زمین کی گہرائیوں میں ہیروں کی موجودگی کا پتا چلا۔ الرچ فال کا کہنا ہے کہ لہروں کی رفتار کی پیمائش کے بعد ہمارا اندازہ ہے کہ زیر زمین چٹانوں میں ایک سے دو فی صد تک ہیرے موجود ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہیرے زمین کی گہرائیوں میں ہی بنتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں جن کانوں سے ہیرے اور دیگر قیمتی پتھر نکالے جا رہے ہیں وہ لاکھوں سال پہلے آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے سے وجود میں آئیں تھیں۔

ملکہ برطانیہ کا تاج جس میں کوہ نور ہیرا جڑا ہے۔

زمین ، کرہ ہوائی اور فلکیات کے شعبے کے سائنس دان الرچ فال نے کہا ہے کہ ہم ہیروں کا نکال نہیں سکتے ، لیکن ان کی مقدار اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ اس سے پہلے ہم نے سوچا تھا۔

اب آپ کا سوال ہو گا ہے کہ جب ہیرے دریافت ہو چکے ہیں تو پھر وہ حاصل کیوں نہیں کیے جا سکتے تو اس کا سادہ سا جواب ہے ٹیکنالوجی۔۔ آج کے ماڈرن انسان نے پاس فی الحال وہ ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جو زمین کی چٹانی پرتوں میں چھپے ہوئے ہیروں کو باہر لا سکے۔

کان میں سے ہیروں کی تلاش

میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہیروں کا یہ ذخیرہ زمین کے نیچے تقریباً 90 سے 150 میل کی گہرائی میں ہے۔ ہم نے ابھی تک کوئی ایسی رگ مشین نہیں بنائی جو اتنی گہرائی تک کھدائی کر سکے۔ ایسی کوئی مشین کب تک تیار کی جا سکے گی، کوئی نہیں جانتا۔

اس نئی دریافت کے بعد اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہیرے بہت کم ملتے ہیں اور نایاب ہوتے ہیں، البتہ نیا ذخیرہ زمین کی سطح پر لانے تک وہ بدستور وہ مہنگے داموں بکتے رہیں گے۔