گائے کے سینگ ہونے چاہییں یا نہیں، سوئٹزرلینڈ میں ریفرنڈم اتوار کو ہو گا

گائے کے سینگ ہونے چاہیئں یا نہیں، یہ سوال ان دنوں سوٹزرلینڈ کے ہر شہر اور ہر قصبے کے ہر گلی کوچے میں ہر گھر کا اہم ترین موضوع بنا ہوا ہے۔ اب یہ عام بحث مباحثے کا ہی موضوع نہیں رہا بلکہ سیاست اور حکومت بھی اس کی لپیٹ میں آ چکی ہے اور اتوار 25 نومبر کو ملک بھر میں ریفرنڈم ہونے جا رہا ہے جہاں ملک بھر کے عوام اپنے ووٹ سے یہ فیصلہ کریں گے کہ گائے کو سینگ رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں۔

یوں تو سوئٹزرلینڈ کی شہرت رنگا رنگ پھولوں کی بہتات اور وہاں کا قدرتی حسن ہے جو دیکھنے والوں پر جادو کر دیتا ہے، لیکن سوئٹزرلینڈ کی ایک اور شناخت وہاں کی گائیں ہیں جو اپنے دودھ کی بنا پر یورپ بھر میں شہرت رکھتی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں بڑی تعداد میں ڈیری فارم موجود ہیں جہاں سے یورپ بھر کو دودھ فراہم کیا جاتا ہے۔

ڈیری فارم کے مالکان یا منتظمین عموماً گائیوں کے سینگ کاٹ دیتے ہیں۔ اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ سینگ گائیوں کے اپنے لیے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

سوئٹزر لینڈ میں ایسی گائیوں کی تعداد بہت کم ہیں جو سینگ کٹوانے محفوظ رہتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سوئٹزر لینڈ کی تین چوتھائی گائیوں کے سینگ نہیں ہوتے، یا تو ان کے سینگ جلا دیئے جاتے ہیں یا ان گائیوں کا تعلق اس ہائی بریڈ نسل سے ہے جو سینگ کے بغیر پیدا ہوتی ہیں۔

سینگ کاٹنے کے لیے انہیں عموماً استری نما لوہے کے دہکتے ہوئے آلے سے جلا دیا جاتا ہے۔ جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ یہ ظالمانہ طریقہ ہے۔ اس سے جانور کو بہت تکلیف ہوتی ہے لیکن سینگ جلانے کے حامی یہ کہتے ہیں کہ گائیوں کے سینگ انہیں بے ہوش کرنے کے بعد جلائے جاتے ہیں جس میں انہیں ذرا بھی تکلیف نہیں ہوتی۔

تاہم گائے پالنے والوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ان کے سینگ نہیں ہونے چاہییں تاکہ وہ اپنے سر کو آزادی سے حرکت دے سکیں۔

گائے کے سینگوں کے حق میں مہم چلانے والے ارمین کیپال اپنے فارم میں اپنی گائیوں کے ساتھ۔

لیکن ارمین کیپال اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ میں نے یہ تحریک گائیوں اور بکریوں کو زبان دینے کے لیے شروع کی ہے۔ آپ ان کے سینگ کیسے جلا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مویشیوں کی عظمت اور وقار کا معاملہ ہے۔

67 سالہ کیپال ایک دیہی علاقے میں اپنا چھوٹا سا ڈیری فارم چلاتے ہیں۔ ان کے فارم کی گائیوں کے سینگ محفوظ ہیں۔

کیپال نے 2010 میں گائے کے سینگوں کا معاملہ اٹھایا تھا، لیکن انہیں کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی مہم پوری جانفشانی سے جاری رکھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ گائے کے سینگوں کی مہم صروف اس ایک شخص کے سر پر کھڑی ہے۔ انہوں نے سیاسی حلقوں کی توجہ بھی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔

کیپال ابتدائی کامیابی 2014 میں اس وقت ملی جب جانوروں کے حقوق کے کچھ گروپس نے ان کی ہاں میں ہاں ملانی شروع کی۔ اور پھر انہوں نے اپنا مطالبہ منوانے کے لیے دستخطوں کی مہم شروع کی اور اب آخرکار وہ ایک لاکھ افراد کے دستخط حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کا قانون یہ ہے کہ جب کسی مسئلے کے حق میں ایک لاکھ افراد دستخط کر دیں تو حکومت کو ووٹروں کی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کرانا پڑتا ہے۔ گائے کے سینگوں پر ریفرنڈم 25 نومبر اتوار کو ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک شخص کیپال کی ہی کامیابی نہیں ہے بلکہ جمہوریت کی کامیابی ہے جہاں جمہور کی آواز کا احترام کیا جاتا ہے۔

رائے عامہ کے جائزے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کیپال کامیابی کا ووٹ حاصل کر لیں گے۔

اس تصویر کا ایک اور رخ یہ ہے کہ یہ صرف گائے کا سینگوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ تین کروڑ فرانک یعنی ایک کروڑ ڈالر کا معاملہ بھی ہے۔ مہم چلانے والوں کا مطالبہ ہے کہ ہر سینگ والی گائے کے لیے حکومت سالانہ 190 فرانک کی امداد دے۔ وہ کہتے ہیں کہ سینگ والی گائیوں کی دیکھ بھال پر اضافی اخراجات آتے ہیں جس کے لیے حکومت کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

مہم کے مخالفین کو خدشہ ہے کہ یہ رقم اس سبسیڈی سے نکلے گی جو حکومت ہر سال زراعت کے شعبے کو دیتی ہے۔