گٹکے کی تیاری اور فروخت کے خلاف قانون سازی

پاکستان میں مضر صحت گٹکا کے استعمال سے منہ کے کینسر میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گٹکا پر پابندی عائد کرنے کے لئے عدالت عالیہ سندھ کی ہدایت پر ایک مسودہ قانون تیار کیا گیا ہے جو سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ گٹکا کی تیاری، فروخت اور اس کے استعمال کے خلاف قانو ن سازی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

پاکستان میں صارفین کے حقوق کی جدوجہد میں مصروف غیر سرکاری اداروں نے مضر صحت اشیاء کی تیاری ، فروخت اور استعمال کے خلاف قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ سندھ کی عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا۔

کنزیومر ایسوسی ایشن کی درخواست پر گزشتہ دنوں سندھ ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد خصوصی طور پر گٹکا تیار اور فروخت کرنے میں ملوث عناصر اور اس کی روک تھام کے ذمہ دار اداروں کے سربراہوں کو 18 نومبر کو سماعت کے لئے طلب کر لیا ہے۔

گٹکا پر پابندی کی درخواست پر سماعت کے دوران کنزیومر ایسوسی ایشن نے گٹکا کے استعمال سے منہ کے کینسر میں مبتلا چند ایسے مریضوں کو بھی عدالت میں پیش کیا تھا جن کے جبڑے کینسر کے باعث گل چکے تھے۔

وکلاء نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ غیر معیاری گٹکے کے باعث کراچی کے کینسر اسپتال میں سالانہ دس ہزار منہ کے کینسر کے کیس رجسٹر ہو رہے ہیں۔ عدالت نے تمام متعلقہ فریقوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں حیرانی کا اظہار کیا کہ آیا حکومت چاہتی ہے کہ کیا ساری قوم کینسر کی مریض بن جائے۔

عدالت نےکہا کہ کیا یہ جنگی حالات نہیں؟ عدالت نے اپنے ریمارس میں کہا کہ یہ بھی ایک طرح کی دہشت گردی ہے جو انسانوں کی جان لے رہی ہے۔

اس ضمن میں سیکرٹری قانون نے عدالت کو بتایا کہ گٹکا اور دیگر مضر صحت اشیا کے خلاف قانون سازی کے لیے ایک بل سندھ اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے جسے ایک ہفتے میں منظور کر لیا جائے گا۔ جس پر عدالت نے گٹکا پر پابندی کے لیے قانون سازی کا حکم جاری کر دیا۔

گٹکا کے پیکٹ گلی کوچوں میں عام فروخت ہوتے ہیں۔

سیکرٹری قانون کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے بل میں گٹکا تیار کرنے والوں کو دس سال قید، فروخت کرنے والوں کو پانچ سال اور استعمال کرنے والوں کو ایک سال قید کی سزا تجویز کی گئی تھی، تاہم عدالت نے سزاؤں کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کی جس میں گٹکا کی تیاری پر 25 سال، فروخت پر 10 سال اور استعمال پر تین سے پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا کی تجویز دی گئی ہے۔

گٹکا کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے والے سماجی کارکن عمران شہزاد کہتے ہیں کہ گٹکا کی تیاری میں سپاری کی بجائے کھجور کی گٹھلیوں کو تیزاب میں جلا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سپاری کی درآمد مکمل بند ہے جس کی وجہ سے گٹکا بنانے والے کھجور کی گٹھلیوں کو تیزاب میں جلاتے ہیں جسے لوگ سپاری سمجھ لیتے ہیں۔ یہ تیزابی گھٹلیاں منہ کے کینسر کا سبب بن رہی ہیں۔ جناح اسپتال میں منہ کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جس پر ہم نے عدالت میں درخواست دائر کی۔ عدالت نے ڈی جی سندھ فوڈ اتھارٹی اور ڈی جی رینجرز کو 18 نومبر کی سماعت پر طلب کر لیا ہے۔

عمران شہزاد کا کہنا ہے کہ منظور کیا جانے والا سندھ کنزیومر ایکٹ اور سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ بھی اہل کاروں کی غفلت کے باعث غیر موثر ہو گیا ہے۔

گٹکا کا مسلسل بے دریغ استعمال بالآخر اسپتال پہنچا دیتا ہے۔

صارفین کے حقوق کے تحفظ کے ایک تنظیم کنزیومر ایسوسی ایشن کے سنیئر نائب صدر جاوید چھتاری ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ عدالت کو یہ اختیار ہے کہ مفاد عامہ کے جن شعبوں میں قانون سازی نہ ہوئی ہو تو وہ اس کا نوٹس لے کر قانون سازی کا حکم جاری کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں پیش کی گئی سرکاری سمری میں بہت کم سزائیں رکھی گئی تھیں جس پرتو عدالت نے عدم اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے اسے بڑھانے کے لیے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال منہ کے کینسر کے دس ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق حفظان صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کھلے عام گٹکا کی تیاری اور فروخت کی وجہ سے منہ کا کینسر خطرناک شکل اختیار کر گیا ہے۔ دوسری جانب اسپتالوں اس کے علاج کی سہولتیں بھی ناکافی ہیں۔ جس سے اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔