ہانگ کانگ: ‘نوجوان نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں’

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں، سیاسی تناؤ، رہائشی اخراجات اور مہنگائی کے باعث ذہنی امراض میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ہانگ کانگ میں حال ہی میں حکومت کی جانب سے متعارف کروائے گئے ملزمان کی چین حوالگی قانون کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے تھے، جس کے باعث ہانگ کانگ میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکومت کی جانب سے مجوزہ قانون واپس لیے جانے کے باوجود ہانگ کانگ میں زندگی معمول پر نہیں آ سکی اور اب بھی مختلف علاقوں میں احتجاج بدستور جاری ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ساری صورتحال سے نوجوان طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے، نامساعد رہائشی سہولیات، مہنگائی، تعلیمی دباؤ اور مخدوش مستقبل کے خطرات سے فکر مند نوجوانوں میں نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔

ہانگ کانگ کی رہنما کیری لام نے ملزمان کی چین حوالگی قانون سے متعلق کہا تھا کہ اب یہ قانون مر چکا ہے، تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ شورش سے ہانگ کانگ میں مختلف معاشرتی مسائل نے جنم لیا ہے۔

کیری لام کا کہنا تھا کہ “ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہانگ کانگ میں کچھ بنیادی مسائل موجود ہیں، یہ معاشی، رہائش اور سیاسی تقسیم سے متعلق بھی ہو سکتے ہیں تاہم ہمیں مسئلے کا تعین کر کے اس کا حل تلاش کرنا ہے۔”

ہانگ کانگ میں احتجاجی مظاہروں کے دوران نوجوانوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا تھا، جن پر پولیس آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں برساتی رہی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے نتیجے میں نوجوانوں میں غصہ اور اشتعال بڑھ گیا ہے، ہانگ کانگ کے لوگ نفسیاتی مسائل سے متعلق بات کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ وہ کہاں جائیں۔

مقامی افراد کے مطابق خاندانی جھگڑوں، معمولی بات پر تلخ کلامی جیسے واقعات بھی معمول بن چکے ہیں۔

ہانگ کانگ میں بعض اداروں نے نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے رضاکارانہ طور پر لوگوں کو کونسلنگ کی پیشکش کی ہے۔ اس ادارے سے وابستہ ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ڈپریشن میں مبتلا ایک نوجوان آیا جس نے ایک سال سے اپنا علاج نہیں کروایا تھا۔

ہانگ کانگ کی حکومت نے حال ہی میں ایک بل متعارف کروایا تھا جس کے تحت ہانگ کانگ میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے ملزمان کے خلاف مقدمات چین میں چلانے کی اجازت دی گئی تھی۔

بل کے خلاف ہانگ کانگ میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے، مظاہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ چین میں حکومت کے زیر اثر عدالتی نظام میں انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے لہذٰا اس بل کو واپس لیا جائے۔

ان مظاہروں کے پیش نظر ہانگ کانگ کی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور یہ بل واپس لے لیا تھا۔